Sunday, 10 July 2016

نقش قدم



ایک آدمی کا انتقال ہوگیا اور جب اس کا کفن دفن ہو گیا تو اس کو منجھلا بیٹا تعزیت کرنے آنے والوں سے گلے لگ لگ کر روتا اور کہتا رہتا میرے والد بہت شریف بھلے مانس انسان تھے جب اس طرح ہی کرتے اس کو کافی دیر گزری تو اس سے چھوٹے بھائی نے تنگ آکر بول ہی دیا کہ بھائی جان کیوں جھوٹ بولتے ہو ساری زندگی آپ نے والد صاحب کا جینا حرام کیے رکھا اور لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ ہمارے والد کیسے انسان تھے بس آپ اب اپنے منہ سے یہ الفاظ مت نکالنا اور اگر آپ کو اتنا ہی درد اور دکھ ہے تو والد صاحب کی بتائی باتوں پر عمل شروع کردیں تو ہمیں بھی یقین ہو جاۓ گا کہ ہمارا باپ شریف اور بھلے مانس انسان تھا.بس پھر کیا تھا کہ منجھلے بھائی جان نے وہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی.
یہ ہی حال ہمارا ہے کہ قائد اعظم ہو ایدھی یا  کوئی اور بھی ہو جس نے ہمیں سبق دیا ہمارے لئے اچھا کیا جب وہ اس دنیا چلا جاتا تو ہم دور چار دن اس کو یاد کرتے ہیں اور اس کہ بعد اپنی رنگینیوں میں کھو جاتے ہیں.ہم نے خود کو کبھی ان کے راستے پر چلانا ہی نہیں چاہا اس لئے ہی تو ہم دربدر ہوۓ پڑے ہیں.اگر ہم خود کو کامیاب کرنا چاہتے ہیں تو اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلنا پڑے گا اور قربانی دینا پڑے گی.

No comments:

Post a Comment