Saturday, 30 July 2016

شخصی کارکن اور نظریاتی کارکن کارکن

شخصی کارکن اور نظریاتی کارکن کارکن
کسی بھی تنظیم,گروپ یا لشکر میں ریڑھ کی ہڈی مانند ہوتا ہے.کارکن اپنی تنظیم,گروپ یا لشکر کو فرش سے عرش تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور یہی کارکن عرش سے فرش تک لانے میں دیر نہیں لگاتا ہے.کارکن دن رات بغیر تنخواہ معاوضہ کے اپنی تنظیم کے لیے کام کرتا ہے اور وہ کبھی بھی کسی بھی قیمت پر نہ جھکتا ہے اور نہ ہی بکتا ہے.لیکن جیسے دور بدل رہا ہے لوگ بدل رہے معاشرہ میں تبدیلی آرہی ہے اس کے ساتھ ساتھ کارکن بھی دو گروہوں میں تبدیل ہوگئے ہیں.ایک گروہ شخصی کارکن پر مشتمل ہے اور ایک نظریاتی کارکن کا گروہ ہے.اگر دیکھا جاۓ اور غور فکر کیا جاۓ تو نظریاتی کارکن سے الگ ہوکر ہی شخصی کارکن معرض وجود میں آۓ ہیں.کیونکہ جب سے مفاد پرست لوگوں نے اپنے مقاصد  کے لیے کارکن کا استعمال شروع کیا ہے تب سےتنظیم میں نظریاتی اور شخصی کارکن کی لکیر کھینچی جا چکی ہے.اب تنظیم میں شخصی کارکن صرف کسی خاص شخصیت کے لیے کام کرتا ہے اور  اس کا مقصد اس شخصیت کو فائدہ پہنچانا ہوتا ہے.بے شک تنظیم کا نقصان ہوجاۓ اس شخصی کارکن کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہوتا ہے.پہلے دور میں جب تحریکیں چلا کرتی تھی تو تنظیم کے سربراہ اپنے کارکنوں سےسب کچھ تہہ کرکے تحریک چلایا کرتے تھے اور ان کی تحریک کامیاب ہوتی تھی کیونکہ کارکن اپنے مفاد سے بالاتر ہو کر تحریک چلاتے تھے.لیکن اب نظریاتی کارکن محنت کرتا رہتا ہے لیکن مفاد پرست اور شخصی کارکن اس کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے رہتے ہیں.نظریاتی کارکن کبھی اپنی تنظیم کے نظریہ پر سمجھوتہ نہیں کرتا ہے.لیکن شخصی کارکن اپنے مفاد کی خاطر سمجھوتہ بھی کرتا ہے اور اپنا نظریہ بھی بیچ دیتا ہے.اس کی مثالیں آپ کو آج کے دور میں عام دیکھنے کو ملے گی.شخصی کارکن بھی نظریہ پر ہوتا ہے اور نظریاتی کارکن بھی لیکن دونوں میں زمین آسمان کافرق ہوتا ہے.ںظریاتی کارکن اپنی جان جوکھم میں ڈال کر تنظیم کے بھلائی اور معاشرے کی بھلائی کے لیے کام کرتا ہے.اور ہمیشہ خود سے زیادہ اسکو اپنی تنظیم  اس کے سربراہ کی عزت اور وقار عزیز ہوتا ہے.لیکن شخصی اور مفاد پرست کارکن ان سب چیزوں کو بلاۓ تاک رکھتے ہوۓ سب کا سودا کردیتا ہے.آپ دیکھ سکتے کہ روز ہزاروں تحریکیں چلائی جاتی ہیں لیکن کوئی بھی کامیاب نہیں ہوتی ہے کیونکہ ان تحریک چلانے والوں کو اور اس تحریک میں کلیدی کردار ادا کرنے والوں نے اپنے مفاد اس سے جوڑ لیے ہوتے ہیں جس وجہ سے وہ ناکام ہو جاتے ہیں اور اس وجہ سے نطریاتی کارکن کی قدر کم سے کم ہوتی جارہی ہے کیونکہ وہ بغیر کسی صلہ کے کام کرتا لیکن لوگ اس کو کام کرنے نہیں دیتے تو وہ پیچھے ہٹ جاتا ہے جس وجہ سے اس کی جگہ مفاد پرست ٹولہ لے لیتا ہے.اور ایک تنظیم اپنے وفا دار سے محروم ہوجاتی ہے.اور ترقی سے پستی کا سفر ہوتا ہے کسی بھی تنظیم کا کہ جب اس کا وفادار کارکن اس سے پیچھے ہٹ جاۓ.کسی بھی تنظیم کے سربراہ کے لیے ایک پیغام ہے کہ وہ اپنے نظریاتی کارکنوں کو یکجان رکھے اور کیونکہ وہ ان کی وجہ سے مضبوط اور کامیاب ہے. مفاد پرست اور شخصی کارکنوں سے التجا ہے کہ خدارا معاشرے پر رحم کھائیں اور اپنی عزت و وقار بنائیں.
نوٹ. ان باتوں سے اتفاق کرنا یا نہ کرنا آپ پر منحصر ہے کیونکہ یہ باتیں میں نے معاشرے سے سیکھی اور اپنی صلاحیت کے مطابق آپ تک پہنچادیں.شکریہ

Sunday, 10 July 2016

نقش قدم



ایک آدمی کا انتقال ہوگیا اور جب اس کا کفن دفن ہو گیا تو اس کو منجھلا بیٹا تعزیت کرنے آنے والوں سے گلے لگ لگ کر روتا اور کہتا رہتا میرے والد بہت شریف بھلے مانس انسان تھے جب اس طرح ہی کرتے اس کو کافی دیر گزری تو اس سے چھوٹے بھائی نے تنگ آکر بول ہی دیا کہ بھائی جان کیوں جھوٹ بولتے ہو ساری زندگی آپ نے والد صاحب کا جینا حرام کیے رکھا اور لوگوں کو بھی معلوم ہے کہ ہمارے والد کیسے انسان تھے بس آپ اب اپنے منہ سے یہ الفاظ مت نکالنا اور اگر آپ کو اتنا ہی درد اور دکھ ہے تو والد صاحب کی بتائی باتوں پر عمل شروع کردیں تو ہمیں بھی یقین ہو جاۓ گا کہ ہمارا باپ شریف اور بھلے مانس انسان تھا.بس پھر کیا تھا کہ منجھلے بھائی جان نے وہاں سے جانے میں ہی عافیت سمجھی.
یہ ہی حال ہمارا ہے کہ قائد اعظم ہو ایدھی یا  کوئی اور بھی ہو جس نے ہمیں سبق دیا ہمارے لئے اچھا کیا جب وہ اس دنیا چلا جاتا تو ہم دور چار دن اس کو یاد کرتے ہیں اور اس کہ بعد اپنی رنگینیوں میں کھو جاتے ہیں.ہم نے خود کو کبھی ان کے راستے پر چلانا ہی نہیں چاہا اس لئے ہی تو ہم دربدر ہوۓ پڑے ہیں.اگر ہم خود کو کامیاب کرنا چاہتے ہیں تو اپنے بڑوں کے نقش قدم پر چلنا پڑے گا اور قربانی دینا پڑے گی.

Friday, 1 July 2016

لا تعلقی

اسلام و علیکم
میری ایسے لوگ جو بیٹیوں کی عزتوں کی نیلامی پر تلے ہوۓ ہیں ان سے گزارش ہے کہ وہ میرے ساتھ اپنی وابستگی ختم کر لیں.کیونکہ مجھے میدان حشر جب سیدہ زاہرہؒ کے باباؐ کےسامنے پیش ہونا پڑے تو شرمندگی نہ ہو کہ میں بھی ان جاہل اور بے عقل لوگوں کا ساتھ دیتا رہا جو قرآن پاک اور آپؐ کی احادیث کو جھٹلاتے رہے اور صرف اپنے نفس اور گندے کیچڑ زدہ دماغ و دل کی تسکین کے لئے عورت کی آزادی کی بات کرتے ہیں.
ان کو شائد معلوم نہیں کے میرے پیارے رسولؐ 1400 پہلے ہی عورت کو مرد کے برابر کے حقوق عطا کر چکے ہیں. جس کو سمجھ آجاۓ وہ عمل کرۓ اور جو بے عقلاں ہے اس کو عقل آہی نہیں سکتی. شکریہ

Wednesday, 22 June 2016

جستجو حیات

کافی دن سے دماغ کی کھڑکی پر کوئی دستک دے رہا تھا میں نے کھڑکی کھول ہی لی اور کہا ہاں بولو کیا بات ہے.تو لگا شکوہ کرنے کہ مجھے اس دنیا میں کیوں لایا گیا.کیا میرے بغیر یہ دنیا نہیں چل سکتی تھی. ایک دفعہ تو مجھے اسکے شکوہ پر حیرانگی بھی ہوئی اور میں خود سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اس کو دنیا میں لانے کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے. بہت سوچا اور اس ہی سوچ میں دماغ میں لگی گہرئیں کھلنے لگی اور اس دنیا کے ان پہلوؤں پر نظر پڑنا شروع ہوئی جس پر شائد سب کی نظر تو پڑی لیکن انہوں نے اس کو توجہ نہ دی اور اپنی زندگی میں مصروف رہے اور ایسے ہی واپس اپنے خالق حقیقی سے جا ملے.آہستہ آہستہ میرے دماغ میں لگی گہرئیں ڈھلی ہوئی اور مجھے اور سوچنے کا موقع ملا.پھر میرا دھیان اپنے دماغ کی کھڑکی پر دستک دینے والے کے پہلے شکوہ نما سوال پر گیا تو میں نے اسکو جواب دینے کی ٹھانی اور اسکو متوجہ کرتے ہوۓ کہا سنو وہ متوجہ ہوا تو میں نے بولنا شروع کیا کہ دیکھو تم مایوس کیوں ہوتے ہو تمہیں بہت ہی اچھے مقصد کے لئے اس دنیا میں بھیجا گیا ہےدیکھو پہلے تو تم مسلمان ہو اور حضور اکرمؐ کے امتی ہو اور پاکستان کی دھرتی کے مکین ہو تو اس نے مجھے چپ کرواتے ہوۓ بولا کیسا امتی بس نام کا امتی ہو کبھی ان کی بتائی ہوئی تعلیمات پر عمل پیرا تو ہوا نہیں ہوں بس کیا اتنا کافی ہے کہ میں مسلمان ہوں اور حضور اکرمؐ کا امتی ہوں اس نے ایک دفعہ مجھے پھر سوچنے پر مجبور کردیا.اور بولنے لگا کہ پاکستان کا مکین ہوں لیکن کبھی ملک اور قوم کے لئے کچھ کیا تو نہیں ہے بلکہ الٹا ملک اور قوم کے لئے رسوائی کا باعث ہی بنا ہوں.اسکے ان الفاظ کا ادا کرنا تھا کہ مجھے بولنے کا موقع مل گیا تو میں نے کہا سنو ہاں تمہارا اتنا ہی کافی ہے کہ تم مسلمان ہو اور حضور اکرمؐ کے امتی ہو کیونکہ جو امتی ہے وہ ہی درد رکھتا ہے اپنے کیے گناہوں پر غمزدہ ہوتا ہے دیکھو تم غمزدہ بھی ہو اور  جستجو حیات میں بھی ہو.ملک کی  خدمت نہ کرنے  کی وجہ سے دیکھو تم شرمندہ بھی ہو  اور تم یہ بھی سوچتے ہو کہ تم نے ملک اور قوم کو کچھ دیا نہیں ہے.تو دیکھو تمہارے پاس بہت اچھا موقع ہے کہ تم اپنے اوپر لگے یہ سب داغ دھو لو اور بری الزمہ ہو کر اللہ کے سامنے پیش ہونا.اسکو کہا دیکھو تم ایک  مسلمان اور اچھے امتی ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے وفادار ہونے کی حثیت سے قوم کی خدمت سر انجام دے سکتے ہو تو وہ بولا کیسے میں نے کہا دیکھو اللہ رب العزت نے تمہیں تمام نعمتوں سے نواز کر پیدا کیا ہے تو تم ان کا بہتر استعمال کرو اور اسلام و ملک کے لئے خدمات سر انجام دو.اس نے کہا میں چاہو بھی تو ایسا نہیں کر سکتا کیونکہ مجھے میرے معاشرے کے لوگ نہیں جینے دیں گے.اس کے بعد وہ بہت افسردہ سا ہو گیا تو میں نے کہا تم معاشرے کی فکر چھوڑو اور صرف اپنے کام پر دھیان دو جب تم ان کی طرف دھیان نہیں دو گے تو دیکھنا وہ خود ہی شرمندہ ہوگے.وہ تھوڑا مطمئن ہوا تو میں اسکو اس کے دوسرے جواب کا دیتے ہوۓ بولا دیکھو تمھارے بغیر یہ دنیا چل سکتی ہے لیکن اس کو چلانے میں تمہارا حصہ کا کام بہت اہمیت رکھتا ہے تم کچھ بھی اچھا کرتے ہو تو  دنیا کو بہتر چلانے میں یہ تمہارے حصہ ہوگا.میرا یہ بولنا  تھا کہ وہ بولا  میں تو پہلے ایسے ہی جیے جا رہا تھا آج مجھے جستجو حیات مل کئی مجھے زندگی کا مقصد مل گیا ہے اور اب میں اسلام اور اپنے ملک کی خدمت کروں گا اور اس معاشرے کی فکر نہیں کروں گا.اس کے اس عزم نے مجھے بھی مضبوط کردیا اور اس کے ساتھ میں نے بھی اپنے جستجو حیات کی تجدید کرلی..

Sunday, 19 June 2016

یوم والد محترم


ماں کے قدموں تلے جنت ہے تو اس جنت کا دروازہ باپ ہے.باپ ایک عظیم ہستی ہے جو آپکی زندگی میں آنے والی تمام آفات کو آپ تک پہنچنے ہی نہیں دیتا ہے. ہمیشہ آپکو اپنے سایہ میں رکھتے ہوۓ آپکو دنیا کی تمام خوشیوں سے لبریز کرتا ہے.آپکے مستقبل کو کامیاب بنانے کے لئے وہ اپنا مستقبل آپ پر نچھاور کر دیتا ہے  دن رات آپکے لئے تگ و دو کرتا ہے تاکہ آپ کامیاب ہو جاؤ اور آپ کو اپنی تکلیف محسوس تک نہیں ہونے دیتا ہے.اس ہی کو تو باپ کہتے ہیں.آپکی خوشی اور مسکراہٹ کی خاطر رات کو دن اور دن کو رات بنا دیتا ہے.آپکی انگلی پکڑ کر آپکو دنیا کے ساتھ مقابلہ اور اس کے ساتھ چلنے کا ہنر سکھاتا ہے.آپکی کامیابیوں کے پیچھے باپ کا ہاتھ ہوتا ہے.باپ کا سایہ جب تک آپ پر ہوتا ہے آپ دنیا کہ کامیاب ترین انسان ہو.باپ کے بغیر آپ کچھ نہیں ہو.آپ سب کے لئے میرا پیغام اپنے والد کی عزت کریں کیونکہ جب آپ باپ بنے تو آپکی اولاد آپکی عزت و احترام کرے.

Sunday, 12 June 2016

نگاہ جانب منزل

نگاہ جانب منزل
لوگ جب آپ کے کام کی تعریف کرنے کے بجائے آپ کا مزاق اور  تنقید کا نشانہ بنائے تو سمجھ جائیں آپ کچھ الگ کر رہے کیونکہ جب بھی کبھی کسی نے الگ کرنے کی ٹھانی یا کچھ الگ کیا تو لوگوں نے اس کا مزاق اور تنقید کا نشانہ بنایا.
آپ اس مزاق اور تنقید کو ملعوظ خاطر میں نہ لاتے ہوئے اپنی منزل کی طرف گامزن رہیں جب اپنی منزل پر پہنچ جائیں گے تب ہیں لوگ آپ کی کامیابی کا جشن منائیں گے اور منادیاں کروائیں گے.اس لئے اپنی منزل کی طرف دھیان دیں اور آگے بڑھتے جائیں.